نئی دہلی،12؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے صدرفاروق عبداللہ نے آج بڑا اعلان کرکے حکومت ہندکو سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کردیاہے،اس اعلان سے سیاست میں ایک بارپھر ہلچل مچ گئی ہے-
فاروق عبداللہ نے نشریاتی ادارہ”انڈیا ٹوڈے“ کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ چین اور ہندوستان کے واقع لائن آف ایکچوئل کنٹرول(ایل اے سی) پرہونے والی کشیدگی کی اصل وجہ دفعہ 370کا خاتمہ ہے-انہوں نے کہا کہ چین نے دفعہ370 کی منسوخی کو نہ کبھی قبول کیا اور نہ ہی مودی کے اس فیصلہ کی اس نے کبھی حمایت کی ہے،اس لئے وہ پر امید ہیں کہ چین کی مدد سے مذکورہ دفعہ کوبحال کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے-
فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی چین کے صدر کو مدعو نہیں کیا، یہ وزیراعظم نریندر مودی تھے جنہوں نے نہ صرف چینی صدر کو مدعو کیا بلکہ تمل ناڈو کی راجدھانی چنئی میں اْن کیلئے پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا-فاروق عبداللہ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے 5/ اگست کو جو کچھ کیا وہ ناقابل قبول ہے-واضح رہے کہ گزشتہ سال5/ اگست کو مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے آئین سے دفعہ370یعنی اس میں کشمیر کو دی گئی نیم خود مختار حیثیت کو ختم کر کے اسے وفاق کے زیرِ انتظام دو علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا تھا-کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے بعد فاروق عبداللہ، ان کے صاحبزادے اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو نظر بند کر دیا گیا تھا-
واضح رہے کہ ہند- چین کے درمیان مئی سے ہی لداخ کی وادی گلوان میں سرحدی حد بندی کے معاملے پرکشیدگی برقرار ہے- جون میں ہونے والی ایک جھڑپ میں 20ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے تھے اور دونوں ملکوں کی سرحدی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا گیا تھا-دونوں ممالک سرحدی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں -مودی حکومت کا یہ موقف ہے کہ دفعہ370کی منسوخی اس کا اندرونی معاملہ ہے اور یہ اقدام کشمیر کے عوام کی بہتری کے لیے اْٹھایا گیا ہے -
ہندوستان نے حال ہی میں چین کی سینکڑوں موبائل فون اپیلی کیشنز پر پابندی عائد کی ہے، ان میں ٹک ٹاک سمیت کئی دوسری مشہور ایپس شامل ہیں -اس پابندی کو نئی دہلی پر بیجنگ کے معاشی اثر کو ختم کرنے کے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے-